غزل

شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح

شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح
میر انیس· Ghazal· 9 shers· radif: की तरह

یہ غزل ہجر کے کرب، عشق میں فنا ہونے اور قیس کی مانند محبت میں لازوال قربانی کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں تنہائی اور جدائی کے اثر سے عاشق کے بتدریج زوال اور اپنے عیوب کو بھی ہنر کی طرح نبھانے کی پُردرد کیفیت بڑی نزاکت سے بیان ہوئی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
शहीद-ए-इश्क़ हुए क़ैस नामवर की तरह जहाँ में ऐब भी हम ने किए हुनर की तरह
شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح جہاں میں عیب بھی ہم نے کیے ہنر کی طرح
ہم مشہور قیس (مجنوں) کی طرح محبت میں شہید ہوئے، اور اس دنیا میں ہم نے اپنے عیبوں کو بھی ایک فن کی طرح اپنایا۔
2
कुछ आज शाम से चेहरा है फ़क़ सहर की तरह ढला ही जाता हूँ फ़ुर्क़त में दोपहर की तरह
کچھ آج شام سے چہرہ ہے فق سحر کی طرح ڈھلا ہی جاتا ہوں فرقت میں دوپہر کی طرح
3
सियाह-बख़्तों को यूँ बाग़ से निकाल ऐ चर्ख़ कि चार फूल तो दामन में हों सिपर की तरह
سیاہ بختوں کو یوں باغ سے نکال اے چرخ کہ چار پھول تو دامن میں ہوں سپر کی طرح
4
तमाम ख़ल्क़ है ख़्वाहान-ए-आबरु ऐ रब छुपा मुझे सदफ़-ए-क़ब्र में गुहर की तरह
تمام خلق ہے خواہان آبرو اے رب چھپا مجھے صدف قبر میں گہر کی طرح
5
तुझी को देखूँगा जब तक हैं बरक़रार आँखें मिरी नज़र न फिरेगी तिरी नज़र की तरह
تجھی کو دیکھوں گا جب تک ہیں برقرار آنکھیں مری نظر نہ پھرے گی تری نظر کی طرح
6
हमारी क़ब्र पे क्या एहतियाज-ए-अम्बर-ओ-ऊद सुलग रहा है हर इक उस्तुख़्वाँ अगर की तरह
ہماری قبر پہ کیا احتیاج‌ عنبر و عود سلگ رہا ہے ہر اک استخواں اگر کی طرح
7
नहीफ़-ओ-ज़ार हैं क्या ज़ोर बाग़बाँ से चले जहाँ बिठा दिया बस रह गए शजर की तरह
نحیف و زار ہیں کیا زور باغباں سے چلے جہاں بٹھا دیا بس رہ گئے شجر کی طرح
8
तुम्हारे हल्क़ा-ब-गोशों में एक हम भी हैं पड़ा रहे ये सुख़न कान में गुहर की तरह
تمہارے حلقہ بہ گوشوں میں ایک ہم بھی ہیں پڑا رہے یہ سخن کان میں گہر کی طرح
9
'अनीस' यूँ हुआ हाल-ए-जवानी-ओ-पीरी बढ़े थे नख़्ल की सूरत गिरे समर की तरह
انیسؔ یوں ہوا حال جوانی و پیری بڑھے تھے نخل کی صورت گرے ثمر کی طرح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.