“Such was the fate of youth and age, O Anees: we rose high like a palm tree, and fell like its fruit.”
اے انیس، جوانی اور بڑھاپے کی حالت یوں گزری کہ ہم درخت کی طرح اونچے بڑھے اور پھر پھل کی طرح نیچے گر گئے۔
میر انیسؔ نے اس شعر میں جوانی کے عروج اور بڑھاپے کے زوال کو ایک لاجواب تمثیل کے ذریعے پیش کیا ہے۔ جوانی میں انسان ایک تناور درخت (نخل) کی طرح فخر سے بلندیوں کی جانب بڑھتا ہے، مگر بڑھاپا آتے ہی وہی طاقت زائل ہو جاتی ہے اور وہ پکے ہوئے پھل (ثمر) کی طرح شاخ سے ٹوٹ کر خاک پر آ گرتا ہے۔ یہ شعر ہمیں انسانی زندگی کی بے ثباتی اور عروج کے بعد ناگزیر زوال کا نرمی سے احساس دلاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
