“What need of ambergris and aloeswood upon my grave? Each bone of mine smolders like incense still.”
ہماری قبر پر عنبر اور عود جیسی خوشبوؤں کی کیا ضرورت ہے، جب ہماری ہر ایک ہڈی اگر کی طرح خود ہی سلگ رہی ہے۔
اس شعر میں شاعر نے عشق کی اس لازوال آگ کا نقشہ کھینچا ہے جو مٹی میں ملنے کے بعد بھی بجھ نہیں پاتی۔ روایت کے مطابق قبروں کو معطر کرنے کے لیے عنبر اور عود جیسے خوشبودار مصالحے جلائے جاتے ہیں، لیکن عاشق کہتا ہے کہ اس کی مزار کو ان کی کوئی حاجت نہیں۔ ہجر اور محبت کے سوز نے اس کی ہڈیوں کو اگر کی لکڑی کی طرح سلگا رکھا ہے، یعنی موت کے بعد بھی اس کا وجود عشق کی خوشبو بکھیر رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
