سیاہ بختوں کو یوں باغ سے نکال اے چرخ کہ چار پھول تو دامن میں ہوں سپر کی طرح

“O fate, cast out the ill-starred from the garden in such a way / That at least a few blossoms rest in their hem, like a shield.”

— میر انیس
معنی

اے گردشِ فلک، بدقسمت لوگوں کو باغ سے اس طرح نکال کہ کم از کم چند پھول تو ان کے دامن میں ڈھال کی مانند حفاظت کے لیے رہ جائیں۔

تشریح

شاعر یہاں گردشِ دوراں سے بڑی دردمندانہ التجا کر رہا ہے کہ اگر ہمیں مسرتوں کے چمن سے بے دخل کرنا ہی تیرا فیصلہ ہے، تو اتنا کرم ضرور کر کہ ہم اپنے دامن میں چند پھول سمیٹ سکیں۔ یہ چار پھول دراصل وہ حسین یادیں ہیں جو اجڑنے کے بعد دنیا کے ستم کے سامنے ڈھال بن کر دل کو حوصلہ دے سکیں۔ اس شعر میں زوال اور محرومی کے دکھ کو خوبصورت یادوں کے سہارے جھیلنے کا عزم چھپا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.