نحیف و زار ہیں کیا زور باغباں سے چلے جہاں بٹھا دیا بس رہ گئے شجر کی طرح

“Frail and worn, what power have we against the gardener's command? / Wherever we were planted down, just like a tree we stand.”

— میر انیس
معنی

ہم اس قدر کمزور اور لاچار ہیں کہ باغبان کے سامنے ہمارا کوئی زور نہیں چل سکتا۔ اس نے جہاں ہمیں بٹھا یا لگا دیا، ہم بس ایک درخت کی طرح وہیں قائم رہ گئے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے انسان کی بے بسی کو ایک بے زبان درخت سے تشبیہ دی ہے، جس کا وجود مکمل طور پر باغباں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ باغباں دراصل مقدر، زمانے یا کسی صاحبِ اختیار کا استعارہ ہے، جس کے فیصلوں کے سامنے کمزور انسان کچھ نہیں کر سکتا۔ تقدیر نے جہاں بٹھا دیا وہیں خاموشی سے جڑ پکڑ لینا—یہ شعر اسی بے چارگی اور خاموش تسلیم کے کرب کو خوبصورتی سے سمیٹتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.