“Like the famed Qais, we became martyrs to the cause of love; in this world, even our flaws we practiced like an art.”
ہم مشہور قیس (مجنوں) کی طرح محبت میں شہید ہوئے، اور اس دنیا میں ہم نے اپنے عیبوں کو بھی ایک فن کی طرح اپنایا۔
اس شعر میں شاعر اپنی محبت کو قیس یعنی مجنوں کے عشق سے تشبیہ دیتے ہیں، جو محبت میں فدا ہو کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ دنیا جسے رسوائی، جنون یا عیب سمجھتی رہی، عاشق نے اسے اتنے کمال، سلیقے اور خلوص سے نبھایا گویا وہ کوئی باقاعدہ ہنر ہو۔ دراصل یہ سماج کے مروجہ اصولوں کے سامنے اپنی دیوانگی کو باوقار انداز میں پیش کرنے اور اس پر فخر کرنے کا نام ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
