شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح جہاں میں عیب بھی ہم نے کیے ہنر کی طرح

“Like the famed Qais, we became martyrs to the cause of love; in this world, even our flaws we practiced like an art.”

— میر انیس
معنی

ہم مشہور قیس (مجنوں) کی طرح محبت میں شہید ہوئے، اور اس دنیا میں ہم نے اپنے عیبوں کو بھی ایک فن کی طرح اپنایا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنی محبت کو قیس یعنی مجنوں کے عشق سے تشبیہ دیتے ہیں، جو محبت میں فدا ہو کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ دنیا جسے رسوائی، جنون یا عیب سمجھتی رہی، عاشق نے اسے اتنے کمال، سلیقے اور خلوص سے نبھایا گویا وہ کوئی باقاعدہ ہنر ہو۔ دراصل یہ سماج کے مروجہ اصولوں کے سامنے اپنی دیوانگی کو باوقار انداز میں پیش کرنے اور اس پر فخر کرنے کا نام ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.