“I shall gaze upon only you as long as my sight endures; my gaze will never turn away, unlike your fleeting glance.”
جب تک میری آنکھوں کی بینائی سلامت ہے، میں صرف تم ہی کو دیکھوں گا؛ میری نگاہ تمہاری نظر کی طرح کبھی نہیں پھرے گی۔
اس شعر میں عاشق کی بے لوث وفا اور محبوب کی بے رخی کا دل کش موازنہ ملتا ہے۔ شاعر اقرار کرتا ہے کہ جب تک اس کی آنکھوں میں بینائی سلامت ہے، وہ صرف اپنے محبوب کا دیدار کرتا رہے گا۔ محبوب نے اگرچہ بے رخی سے نظریں چرا لیں، مگر عاشق کی محبت بھری نظر کبھی نہیں پھرے گی؛ یہی عشق کا سچا مان اور درد بھرا خلوص ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
