غزل
عرش تا فرش سیر کر دیکھا
عرش تا فرش سیر کر دیکھا
یہ صوفیانہ غزل ذاتِ باری تعالیٰ کی ہمہ گیریت اور وحدت الوجود کے عمیق احساس کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر چشمِ بصیرت سے پوری کائنات میں فقط جلوۂ حق کا مشاہدہ کرتا ہے اور اس کے سوا کسی دوسرے وجود کا سراسر انکار کرتا ہے۔
Source: Kulliyat-e-Hazrat Ruknuddin Ishq (poems only) · HI
نغمہ سنیں
1
अर्श ता फ़र्श सैर कर देखा
जल्वा-गर तू हुआ जिधर देखा
عرش تا فرش سیر کر دیکھا
جلوہ گر تو ہوا جدھر دیکھا
میں نے آسمان سے لے کر زمین تک ہر جگہ کی سیر کر کے دیکھ لی؛ میں نے جدھر بھی نظر کی ادھر صرف تو ہی جلوہ گر دکھائی دیا۔
2
चश्म-ए-तहक़ीक़ से जहाँ ढूँडा
गब्र हूँ तुझ सिवा अगर देखा
چشم تحقیق سے جہاں ڈھونڈا
گبر ہوں تجھ سوا اگر دیکھا
میں نے سچائی اور تحقیق کی نظر سے پوری دنیا کو تلاش کیا، اگر تیرے علاوہ کسی اور کو دیکھا ہو تو مجھے کافر سمجھنا۔
3
क़िश्रियों की समझ पे हैरान हूँ
दूसरा है कहाँ किधर देखा
قشریوں کی سمجھ پہ حیران ہوں
دوسرا ہے کہاں کدھر دیکھا
میں ظاہر بین لوگوں کی سمجھ پر حیران ہوں کہ دوسرا کہاں ہے اور انہوں نے اسے کدھر دیکھا ہے۔
4
तीर के नाम पर तड़पता है
इस तरह का कहीं जिगर देखा
تیر کے نام پر تڑپتا ہے
اس طرح کا کہیں جگر دیکھا
یہ محض تیر کا نام سن کر تڑپ اٹھتا ہے، کیا آپ نے کہیں ایسا دل دیکھا ہے؟
5
आबला आबला हुए सब उज़्व
नख़्ल-ए-उल्फ़त ने ये समर देखा
آبلہ آبلہ ہوئے سب عضو
نخل الفت نے یہ ثمر دیکھا
جسم کا ہر عضو چھالوں سے بھر گیا، محبت کے درخت نے یہی پھل دیکھا۔
6
सिह्र में सामरी के क्या क़ुदरत
तेरी आँखों में जो असर देखा
سحر میں سامری کے کیا قدرت
تیری آنکھوں میں جو اثر دیکھا
سامری کے جادو میں بھلا وہ طاقت کہاں ہو سکتی ہے، جو اثر میں نے تمہاری آنکھوں میں دیکھا ہے۔
7
ख़बर उस की को किस से पूछूँ मैं
जिस को देखा सो बे-ख़बर देखा
خبر اس کی کو کس سے پوچھوں میں
جس کو دیکھا سو بے خبر دیکھا
میں محبوب کی خبر کس سے پوچھوں، جبکہ میں نے جس کو بھی دیکھا اسے اس سے بالکل بے خبر ہی پایا۔
8
अपने हम-चश्म से लगा कहने
नाला ओ आह ओ शोर ओ शर देखा
اپنے ہم چشم سے لگا کہنے
نالہ و آہ و شور و شر دیکھا
وہ اپنے برابر والے یا ہم مرتبہ شخص سے کہنے لگا کہ کیا تم نے یہ فریاد، آہیں، شور شرابا اور فتنہ و فساد دیکھا؟
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
