“From highest heaven to earthly dust, I wandered far to see; wherever I turned my searching gaze, resplendent was only Thee.”
میں نے آسمان سے لے کر زمین تک ہر جگہ کی سیر کر کے دیکھ لی؛ میں نے جدھر بھی نظر کی ادھر صرف تو ہی جلوہ گر دکھائی دیا۔
شاعر کہتا ہے کہ اس نے آسمان کی بلندیوں یعنی عرش سے لے کر خاک کی پستیوں یعنی فرش تک پوری کائنات کی خاک چھانی۔ اس طویل تلاش کا حاصل یہ نکلا کہ نگاہ جہاں بھی اٹھی، بس اسی ایک محبوبِ حقیقی کا جلوہ اور نور چمکتا دکھائی دیا۔ یہ ایک نہایت پُراثر صوفیانہ احساس ہے، جو بتاتا ہے کہ ساری کائنات اسی ایک پروردگار کے حسن اور جلوے کا آئینہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
