“Turning to his equal, he began to say: Did you behold the weeping, the sighs, the uproar, and the fray?”
وہ اپنے برابر والے یا ہم مرتبہ شخص سے کہنے لگا کہ کیا تم نے یہ فریاد، آہیں، شور شرابا اور فتنہ و فساد دیکھا؟
اس شعر میں عشق کے سوز اور اس کے نتیجے میں برپا ہونے والے ہنگامے کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ کوئی اپنے ہم پلّہ یا دوست سے کہہ رہا ہے کہ کیا تم نے محبت کی وہ فریادیں، آہیں اور دل دہلا دینے والا شور و شر دیکھا؟ یہ اس جذبے کی عکاسی کرتا ہے جہاں انسان چاہتا ہے کہ اس کے درد اور بربادی کا طوفان رائیگاں نہ جائے، بلکہ کوئی اس کا گواہ بنے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
