“From whom, tell me, shall I seek news of Him, when everyone I beheld, I found lost to all awareness?”
میں محبوب کی خبر کس سے پوچھوں، جبکہ میں نے جس کو بھی دیکھا اسے اس سے بالکل بے خبر ہی پایا۔
میر صاحب اس شعر میں تصوف کا ایک گہرا نکتہ بڑی سادگی سے بیان کرتے ہیں کہ بھلا اس محبوبِ حقیقی کی خبر کس سے پوچھی جائے۔ جس کسی نے بھی اس جلوۂ حسن کو دیکھا، وہ اس کے جلال و جمال میں خود کو بھول کر بالکل بے خود اور لاپتہ ہو گیا۔ یہ سچائی کا وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان کے اپنے ہوش و حواس فنا ہو جاتے ہیں، اس لیے جو جان لیتا ہے وہ کچھ بتانے کے قابل نہیں رہتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
