تیر کے نام پر تڑپتا ہے
اس طرح کا کہیں جگر دیکھا
“It thrashes in agony at the mere mention of an arrow; have you ever seen such a heart anywhere?”
— خواجہ رکن الدین عشق
معنی
یہ محض تیر کا نام سن کر تڑپ اٹھتا ہے، کیا آپ نے کہیں ایسا دل دیکھا ہے؟
تشریح
یہ شعر عشق میں دل کی بے پناہ نزاکت اور گہرے گھاؤ کی ایسی تصویر کھینچتا ہے جو روح کو چھو لیتی ہے۔ عام طور پر تیر لگنے پر درد ہوتا ہے، مگر یہاں عاشق کا دل اتنا زخمی اور حساس ہے کہ محض تیر کا نام سن کر ہی تڑپ اٹھتا ہے۔ شاعر کمال سادگی سے پوچھتا ہے کہ کیا زمانے میں کسی نے ایسا ناتواں اور درد آشنا جگر دیکھا ہے، جو چوٹ کے محض خیال سے ہی تڑپ جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
