قشریوں کی سمجھ پہ حیران ہوں دوسرا ہے کہاں کدھر دیکھا

“I marvel at the comprehension of the literalists so blind: where is this 'other'? Just where did they another ever find?”

— خواجہ رکن الدین عشق
معنی

میں ظاہر بین لوگوں کی سمجھ پر حیران ہوں کہ دوسرا کہاں ہے اور انہوں نے اسے کدھر دیکھا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر بڑی خوبصورتی سے اُن ظاہر بینوں (قشریوں) کی سمجھ پر حیرت کا اظہار کر رہا ہے جو صرف باہری چھلکے کو دیکھتے ہیں اور اندر کی روح سے بے خبر رہتے ہیں۔ صوفیانہ نقطۂ نظر یعنی وحدت الوجود کے تحت کائنات کا ہر ذرّہ اُسی ایک ذات کا مظہر ہے، تو پھر کسی 'غیر' کا وجود ممکن ہی نہیں۔ شاعر بس اتنی سی بات پوچھتا ہے کہ جب ہر طرف صرف وہی موجود ہے، تو آخر تم نے یہ دوئی اور تفریق کہاں دیکھ لی؟

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.