غزل

ہر اک عاشق نئے انداز سے قربانِ قاتل تھا

ہر اک عاشق نئے انداز سے قربانِ قاتل تھا

یہ غزل عشق میں ایثار، قربانی اور محبوب کی اداؤں پر جاں نثاری کے مختلف انداز کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ اس میں یہ نکتہ اجاگر کیا گیا ہے کہ محبت کی راہ میں جو جتنا منزل سے بھٹکا ہوا ہے، درحقیقت وہی دوسروں کی رہنمائی کا اہل بنتا ہے۔

Source: Kashkol-e-Majzoob · UR

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
ہر اک عاشق نئے انداز سے قربانِ قاتل تھا قتیلِ تیغِ بے سر تھا شہیدِ نازِ بے دل تھا
ہر عاشق اپنے قاتل محبوب پر ایک انوکھے انداز سے قربان ہو رہا تھا؛ کوئی بے سر تلوار کا مقتول تھا تو کوئی بے رحم محبوب کی اداؤں پر شہید ہوا تھا۔
2
طریقِ عشق میں جو جس قدر گم کردہ منزل تھا وہ بس اتنا ہی اے دل خضرِ رہ بننے کے قابل تھا
عشق کے راستے میں جو شخص اپنی منزل سے جتنا زیادہ بھٹکا ہوا تھا، اے دل، وہ دوسروں کا رہنما بننے کے اتنا ہی زیادہ لائق تھا۔
3
ہزاروں زخم کھا کے بھی نہ تڑپا ہائے مجبوری بس اک تصویرِ بے تابی سراپا تیرا بسمل تھا
افسوس کہ ایسی مجبوری تھی کہ ہزاروں زخم سہنے کے بعد بھی وہ تڑپ نہ سکا۔ تمہارا مجروح اور بسمل شکار سر سے پاؤں تک محض بے قراری کی ایک تصویر بنا رہا۔
4
بہر صورت تھی اک تکلیف بیماریِ اُلفت میں مجھے آسان تھا مرنا مگر پرہیز مشکل تھا
عشق کی بیماری میں بہرحال ایک تکلیف ضرور تھی کہ میرے لیے مر جانا تو آسان تھا لیکن پرہیز کرنا مشکل تھا۔
5
غنیمت ہے کہ مجھ کو قعر دریا نے جگہ دے دی وبال دوش موج آب تھا میں بار ساحل تھا
یہ شکر کا مقام ہے کہ دریا کی تہہ نے مجھے پناہ دے دی، کیونکہ میں پانی کی لہروں کے کندھے پر وبال اور کنارے کے لیے محض ایک بوجھ تھا۔
6
دل وارستہ ہی اپنا اکیلا رہ گیا آخر بہت تھے ہمسفر لیکن ہر اک پابند منزل تھا
آخرکار صرف میرا آزاد اور بے پروا دل ہی اکیلا رہ گیا؛ ساتھ چلنے والے تو بہت تھے لیکن ہر کوئی کسی نہ کسی منزل کا پابند تھا۔
7
کہاں پھر نغمہ و صہب کہاں پھر مطرب و ساقی کسی بیدل کے آتے ہی دگرگوں رنگ محفل تھا
پھر کہاں وہ نغمہ اور شراب رہی اور کہاں گانے والا اور ساقی؟ کسی دل شکستہ شخص کے آتے ہی محفل کا سارا رنگ بدل گیا تھا۔
8
خدا مجذوبؔ کو رکھے سلامت اس نے چونکایا جسے منزل سمجھ رکھا تھا وہ اک خواب منزل تھا
خدا مجذوب کو سلامت رکھے کہ اس نے مجھے چونکا دیا، جسے میں منزل سمجھ رہا تھا وہ تو محض منزل کا ایک خواب تھا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.