“Enduring a thousand wounds, it could not even writhe—alas, what helplessness! From head to toe, your slaughtered prey was but a painted portrait of unrest.”
افسوس کہ ایسی مجبوری تھی کہ ہزاروں زخم سہنے کے بعد بھی وہ تڑپ نہ سکا۔ تمہارا مجروح اور بسمل شکار سر سے پاؤں تک محض بے قراری کی ایک تصویر بنا رہا۔
اس شعر میں عاشق کی بے پناہ مجبوری اور ضبط کا دلدوز منظر کھینچا گیا ہے کہ وہ محبوب کے ہاتھوں زخم پر زخم کھاتا رہا مگر تڑپنے کی مہلت بھی نہ پا سکا۔ شاعر نے 'تصویرِ بے تابی' کی صورت میں ایک کمال کا تضاد باندھا ہے، جہاں بظاہر تو وہ تصویر کی مانند ساکت اور خاموش رہا، مگر اندر سے سر تا پا کرب اور اضطراب کا مجسمہ تھا۔ یہ محبت میں بنا کسی شکوے کے خاموشی سے جان وار دینے کی انتہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
