کہاں پھر نغمہ و صہب کہاں پھر مطرب و ساقی کسی بیدل کے آتے ہی دگرگوں رنگ محفل تھا

“Where then remained the song and wine, where the minstrel and the cupbearer? At the arrival of one brokenhearted, altered was the assembly's very color.”

— خواجہ عزیز الحسن مجذوب
معنی

پھر کہاں وہ نغمہ اور شراب رہی اور کہاں گانے والا اور ساقی؟ کسی دل شکستہ شخص کے آتے ہی محفل کا سارا رنگ بدل گیا تھا۔

تشریح

شاعر نے اس شعر میں محفل کی پرشور رونق اور ایک شکستہ دل کے گہرے درد کا تضاد کمال سادگی سے پیش کیا ہے۔ تصور کیجیے کہ شراب اور راگ رنگ کی ایک بزم جمی ہو، مگر جیسے ہی کوئی سچا غمگین شخص وہاں قدم رکھتا ہے تو سارے نغمے اور رنگینیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔ یہ دل کا وہ اثر اور حزن کی وہ گہرائی ہے جو کسی بھی مصنوعی اور سطحی جشن کو پل بھر میں خاموش اور دگرگوں کر دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.