طریقِ عشق میں جو جس قدر گم کردہ منزل تھا وہ بس اتنا ہی اے دل خضرِ رہ بننے کے قابل تھا

“Along love's path, the more one lost all sight of destination, the more, O heart, was he fit to guide another on the way.”

— خواجہ عزیز الحسن مجذوب
معنی

عشق کے راستے میں جو شخص اپنی منزل سے جتنا زیادہ بھٹکا ہوا تھا، اے دل، وہ دوسروں کا رہنما بننے کے اتنا ہی زیادہ لائق تھا۔

تشریح

اس شعر میں عشق کا ایک دل نشین اور برعکس فلسفہ بیان ہوا ہے کہ اس راستے پر وہی رہبر بننے کے لائق ہے جو خود مکمل طور پر اپنی منزل بھلا چکا ہو۔ عام دنیا میں تو رہنما وہ ہوتا ہے جو سیدھا راستہ جانتا ہو، مگر محبت کے سفر میں بھٹکنے، بکھرنے اور منزل کی پروا چھوڑ دینے کے بعد ہی وہ وسعتِ نظر پیدا ہوتی ہے جو دوسروں کا ہاتھ تھام سکے۔ شاعر نے حضرتِ خضر کا استعارہ لا کر یہ سمجھایا ہے کہ محبت میں رہنمائی کے لیے راستوں کے نقشے کی نہیں، بلکہ دل کے عمیق تجربات اور خود کو گنوا دینے کے شعور کی ضرورت ہوتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.