“May God keep the mystic safe, for he has startled me awake: what I had taken for the destination was merely a dream of the journey's end.”
خدا مجذوب کو سلامت رکھے کہ اس نے مجھے چونکا دیا، جسے میں منزل سمجھ رہا تھا وہ تو محض منزل کا ایک خواب تھا۔
روحانی یا حیات کے سفر میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان راستے کے کسی دلکش پڑاؤ کو ہی اپنی آخری منزل سمجھ کر غفلت میں پڑ جاتا ہے۔ شاعر دل کی گہرائیوں سے مجذوب کے لیے دعا گو ہے، جس نے چونکا کر اسے اس خود فریبی اور میٹھے خواب سے بیدار کر دیا۔ یہ شعر بڑی خوبصورتی سے یاد دلاتا ہے کہ جسے ہم کامیابی یا حصول سمجھ بیٹھے تھے، وہ تو محض منزل کا ایک سراب تھا اور اصل جستجو ابھی باقی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
