ہر اک عاشق نئے انداز سے قربانِ قاتل تھا قتیلِ تیغِ بے سر تھا شہیدِ نازِ بے دل تھا

“Each lover was sacrificed to the slayer in a distinct, unique style: one fallen to a headless sword, one martyred by her heartless wile.”

— خواجہ عزیز الحسن مجذوب
معنی

ہر عاشق اپنے قاتل محبوب پر ایک انوکھے انداز سے قربان ہو رہا تھا؛ کوئی بے سر تلوار کا مقتول تھا تو کوئی بے رحم محبوب کی اداؤں پر شہید ہوا تھا۔

تشریح

شاعر نے اس شعر میں محبت کو ایک ایسا مقتل دکھایا ہے جہاں ہر عاشق محبوب کے ہاتھوں اپنی الگ ادا اور انوکھے انداز سے قربان ہو رہا ہے۔ ایک طرف ظاہری ستم اور تیکھی تلوار کا چرکا ہے، تو دوسری طرف محبوب کی بے رخی اور سنگدل ناز و انداز جو روح کو گھائل کر دیتے ہیں۔ دراصل یہ عشق کی اس وسعت کا بیان ہے، جہاں فنا ہونے کی راہیں مختلف سہی، مگر ہر عاشق اس بربادی کو اپنی معراج سمجھتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.