“In any case, one torment lingered in the malady of love: dying was easy for me, but abstinence was hard.”
عشق کی بیماری میں بہرحال ایک تکلیف ضرور تھی کہ میرے لیے مر جانا تو آسان تھا لیکن پرہیز کرنا مشکل تھا۔
شاعر نے یہاں محبت کو ایک ایسے روگ کے طور پر برتا ہے جس کا پرہیز ہی اصل عذاب بن جاتا ہے۔ طبیب تو بیماری سے بچاؤ کے لیے احتیاط اور ضبط کا مشورہ دیتا ہے، مگر عاشق کے لیے محبوب کے خیال اور طلب سے منہ موڑنا ناممکن تھا۔ وہ عشق میں ہنستے کھیلتے جان تو دے سکتا تھا، لیکن محبت کی اس لت اور کیفیت سے کنارہ کشی اختیار کرنا اس کے بس میں نہ تھا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
