غنیمت ہے کہ مجھ کو قعر دریا نے جگہ دے دی وبال دوش موج آب تھا میں بار ساحل تھا

“It is a mercy that the river's depth has offered me a place; I was a burden on the cresting wave, a deadweight to the shore.”

— خواجہ عزیز الحسن مجذوب
معنی

یہ شکر کا مقام ہے کہ دریا کی تہہ نے مجھے پناہ دے دی، کیونکہ میں پانی کی لہروں کے کندھے پر وبال اور کنارے کے لیے محض ایک بوجھ تھا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر دنیا کی بے رخی اور اپنی تنہائی کا احوال یوں سناتا ہے کہ ڈوب جانا بھی اس کے لیے ایک راحت بن گیا۔ ساحل اور دریا کی اٹھتی لہروں کے لیے وہ محض ایک بے مقصد بوجھ تھا، یعنی اس زندگی میں اسے کہیں قبولیت نہ مل سکی۔ چنانچہ دریا کی پُرسکون اور تاریک گہرائیوں میں سما جانا اس کے لیے کوئی سانحہ نہیں بلکہ ایک غنیمت ہے، جہاں اس کا در بدر وجود بالآخر تھم گیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.