“In the end, only my untethered heart was left all alone; companions were many, but each was bound to a destination.”
آخرکار صرف میرا آزاد اور بے پروا دل ہی اکیلا رہ گیا؛ ساتھ چلنے والے تو بہت تھے لیکن ہر کوئی کسی نہ کسی منزل کا پابند تھا۔
اس شعر میں شاعر نے اپنے آزاد اور بے نیاز دل کی تنہائی کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے، جو کسی مخصوص منزل کی قید میں نہیں تھا۔ زندگی کے سفر میں بظاہر تو بہت سے ساتھی ساتھ چلتے ہیں، مگر سب اپنے اپنے مقاصد اور منزلوں کے پابند ہوتے ہیں اور اپنا ٹھکانہ ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں۔ انجام کار وہی درویش صفت دل تنہا رہ جاتا ہے جسے منزلوں کے حصول کی ہوس نہیں، بلکہ خود سفر کی آزادی سے محبت تھی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
