غزل
اب ہائے کوئی تار گریباں نہیں رہا
اب ہائے کوئی تار گریباں نہیں رہا
یہ غزل شدتِ وحشت، بیگانگی اور شدید مایوسی کی کیفیات کی عکاسی کرتی ہے، جہاں گریبان چاک کرنے اور صحرا نوردی جیسے جنون کے روایتی سہارے بھی چھن چکے ہیں۔ شاعر اپنے الم اور تنہائی کے اس مقام کو بیان کرتا ہے جہاں خود بیابان بھی اس کی وحشتوں سے گریزاں نظر آتا ہے۔
Source: Kashkol-e-Majzoob · UR
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
اب ہائے کوئی تار گریباں نہیں رہا
وحشت میں جی بہلنے کا ساماں نہیں رہا
افسوس کہ اب گریبان کا ایک دھاگہ بھی نہیں بچا، اور دیوانگی کی اس حالت میں دل بہلانے کا کوئی سامان باقی نہیں رہا۔
2
کب میری وحشتوں سے گریزاں نہیں رہا
کب مجھ سے دُور دُور بیاباں نہیں رہا
ویرانہ کب میری وحشت اور جنون سے بھاگتا نہیں رہا، اور کب وہ مجھ سے دور دور نہیں رہا؟
3
وارفتگی شوق کا امکاں نہیں رہا
آجا کہ دل میں اب کوئی ارماں نہیں رہا
اب شوق و محبت میں دیوانگی یا ازخود رفتگی کا کوئی امکان باقی نہیں رہا، لوٹ آؤ کیونکہ اب دل میں کوئی اور ارمان باقی نہیں بچا ہے۔
4
مارا جو ایک ہاتھ گریباں نہیں رہا
کھینچی جو ایک آہ تو زنداں نہیں رہا
میں نے جو ایک ہاتھ مارا تو گریبان تار تار ہو گیا، اور جب ایک آہ بھری تو قید خانہ ہی باقی نہ رہا۔
5
فیض بہار گلشن عارض تو دیکھئے
جنگل کو رُخ کیا تو بیاباں نہیں رہا
محبوب کے رخسار کے چمن کی بہار کا فیض تو دیکھیے کہ جب انہوں نے جنگل کی طرف رخ کیا تو وہ ویرانہ نہ رہا۔
6
تارِ نفس تو ہے اگر اے پنجۂ جنوں
کوئی گلے میں تار گریباں نہیں رہا
اے جنون کے پنجے، اگر گلے میں گریبان کا کوئی دھاگہ چاک کرنے کے لیے نہیں بچا تو کیا ہوا، ابھی سانس کا دھاگہ تو باقی ہے۔
7
قبروں میں جی کے رہ گئے مُردے ارے غضب
کیوں ہو کے قصد گور غریباں نہیں رہا
غضب ہو گیا کہ قبروں میں پڑے مردے بے چین و بے بس ہو کر رہ گئے؛ آخر آپ نے بے کسوں کے قبرستان آنے کا ارادہ کیوں چھوڑ دیا؟
8
لے چل اب اضطراب مجھے سوئے لامکاں
شایانِ وجد عالم امکاں نہیں رہا
اے میری بےقراری، اب مجھے لامکاں کی طرف لے چل، کیونکہ ممکنات کی یہ دنیا اب وجد اور سرور کے لائق نہیں رہی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
