فیض بہار گلشن عارض تو دیکھئے جنگل کو رُخ کیا تو بیاباں نہیں رہا

“Behold the spring-like bounty of the garden of that cheek—turning its gaze toward the wild, the desert was desolate no more.”

— خواجہ عزیز الحسن مجذوب
معنی

محبوب کے رخسار کے چمن کی بہار کا فیض تو دیکھیے کہ جب انہوں نے جنگل کی طرف رخ کیا تو وہ ویرانہ نہ رہا۔

تشریح

اس شعر میں محبوب کے حسن کی حیات بخش اور معجزاتی تاثیر کو ایک دلکش انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے رخسار کی رونق گویا ایک پربہار گلشن ہے، جس کی فیض بخشی کا یہ عالم ہے کہ اس نے صحرا کی طرف رُخ کیا تو وہ بنجر بیاباں بھی چمن بن گیا۔ دراصل یہ محبت کی وہ خوبصورت طاقت ہے جو دل کے سب سے ویران اور اداس گوشوں کو بھی زندگی اور شادابی عطا کر دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.