“Even if no thread of collar is left about my neck, O claw of madness, the thread of breath still remains for you to tear.”
اے جنون کے پنجے، اگر گلے میں گریبان کا کوئی دھاگہ چاک کرنے کے لیے نہیں بچا تو کیا ہوا، ابھی سانس کا دھاگہ تو باقی ہے۔
اردو شاعری میں شدتِ جنوں کی سب سے بڑی علامت اپنے ہی ہاتھوں گریبان تار تار کرنا ہے۔ شاعر اپنے جنوں کے پنجے سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اگر کپڑے کی ساری دھجیاں اڑ چکی ہیں اور گلے میں اب ادھیڑنے کے لیے کوئی دھاگہ نہیں بچا، تو رنجیدہ نہ ہو۔ ابھی میری سانسوں کا نازک تار باقی ہے جسے تم نوچ سکتے ہو، یعنی یہ جنونِ عشق اب جان لے کر ہی دم لے گا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
