“A single strike of my hand, and the collar was no more; a single sigh from my chest, and the prison was no more.”
میں نے جو ایک ہاتھ مارا تو گریبان تار تار ہو گیا، اور جب ایک آہ بھری تو قید خانہ ہی باقی نہ رہا۔
اس شعر میں جنونِ عشق اور دل کی بے قرار طاقت کو کمال خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ گریبان چاک کرنا دیوانگی اور بے خودی کی علامت ہے، جہاں ایک ہی جھٹکے میں ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ اور جب اس تڑپتے دل سے ایک سچی آہ نکلی تو اس کے سوز نے قید خانے کے وجود کو بھی مٹا دیا؛ یعنی جب درد حد سے بڑھ جائے تو دنیا کی کوئی زنجیر یا دیوار اسے قید نہیں رکھ سکتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
