“Alas, not a single thread remains of my tattered collar; in this wild frenzy, nothing is left to beguile my heart.”
افسوس کہ اب گریبان کا ایک دھاگہ بھی نہیں بچا، اور دیوانگی کی اس حالت میں دل بہلانے کا کوئی سامان باقی نہیں رہا۔
اردو شاعری میں جنونِ عشق اور شدتِ غم کے اظہار کے لیے گریبان چاک کرنا ایک معروف علامت ہے۔ شاعر کمال کی بے بسی سے کہتا ہے کہ وحشت اس انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ اب لباس میں کوئی دھاگہ بھی باقی نہیں بچا جسے نوچ کر دل کی بھڑاس نکالی جا سکے۔ یعنی دل کی دیوانگی کو بہلانے اور غم کا بوجھ ہلکا کرنے کا جو آخری سہارا تھا، وہ بھی اب چھن چکا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
