کب میری وحشتوں سے گریزاں نہیں رہا کب مجھ سے دُور دُور بیاباں نہیں رہا

“When has the wilderness not fled before my frenzy? When has the desert ever failed to keep far away from me?”

— خواجہ عزیز الحسن مجذوب
معنی

ویرانہ کب میری وحشت اور جنون سے بھاگتا نہیں رہا، اور کب وہ مجھ سے دور دور نہیں رہا؟

تشریح

اردو شاعری میں دیوانے عام طور پر صحرا کی پناہ لیتے ہیں، مگر یہاں شاعر نے اس روایتی استعارے کو الٹ کر غضب کا رنگ بھرا ہے۔ ان کے جنون اور وحشت کی شدت اتنی زبردست ہے کہ خود بیاباں بھی خوفزدہ ہو کر ان سے دور بھاگتا ہے۔ یہ شعر تنہائی اور وارفتگی کے اس عالم کو پیش کرتا ہے جہاں صحراؤں کی وسعتیں بھی عاشق کے دل کے طوفان کے سامنے تنگ پڑ جاتی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.