“The dead stirred back to life within their graves—alas, what agony! / Why so? Because You no longer intend to visit the graveyard of the forlorn.”
غضب ہو گیا کہ قبروں میں پڑے مردے بے چین و بے بس ہو کر رہ گئے؛ آخر آپ نے بے کسوں کے قبرستان آنے کا ارادہ کیوں چھوڑ دیا؟
اس شعر میں کمال کی ڈرامائی اور پُردِرد تصویر کشی کی گئی ہے کہ جب محبوب کے ’گورِ غریباں‘ پر آنے کی آہٹ ہوئی، تو مر مٹنے والے عاشق بھی امید کے سہارے قبروں میں جی اٹھے۔ مگر ستم یہ ہوا کہ محبوب نے وہاں آنے کا ارادہ ہی بدل دیا، اور یہ بےبس مردے ارمانوں کے بوجھ تلے قبروں کے اندر ہی گھٹ کر رہ گئے۔ عشق کی انتہا دیکھیے کہ مرنے کے بعد بھی عاشق کا چین اور قرار صرف محبوب کے ایک قدم پر ٹکا ہوا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
