غزل
صنم کو
صنم کو
یہ غزل ایک عاشق کی اپنے محبوب کے لیے گہری عقیدت اور تڑپ کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ شاعر محبوب کی موجودگی میں خوشی اور ان کی عارضی آمدورفت اور جدائی کے درد پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ یہ محبوب کو پر اسرار اور دلکش دکھاتی ہے، ان کے رشتے کی نوعیت پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک زیادہ مستقل تعلق کی آرزو کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
યારી ગુલામી શું કરૂં ત્હારી? સનમ!
ગાલે ચૂમું કે પ્હાનીએ તુંને? સનમ!
اے صنم، میں تمہاری یاری کروں یا غلامی؟ میں تمہارے گال چوموں یا تمہارے پیروں میں گروں؟
2
તું આવતાં ચશ્મે જિગર મ્હારૂં ભરે,
જાતાં મગર શું શું કરી રોકું? સનમ!
جب تم آتے ہو، تو میری دل کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ مگر جب تم جاتے ہو، تو اے صنم، میں تمہیں روکنے کے لیے کیا کیا کروں؟
3
તું ઈશ્ક છે યા મહેરબાની યા રહમ?
હસતાં ઝરે મેાતી લબે તે શું, સનમ!
کیا تم عشق ہو یا مہربانی یا رحم؟ جب تم ہنستے ہو تو تمہارے لبوں سے موتی جھڑتے ہیں، کیا بات ہے، اے صنم!
4
મેંદી કદમની જોઈ ના પૂરી કદી!
આવી ન આવી એમ શું થાતી? સનમ!
میں نے تمہارے قدموں کی مہندی کبھی مکمل طور پر نہیں دیکھی۔ اے صنم، تم یوں کیوں آتی جاتی رہتی ہو؟
5
ત્હારી સવારી ફૂલની કયાં ક્યાં ફરે?
તેનો બનું ભમરો બની શું શું? સનમ!
اے صنم، تمہاری پھولوں کی سواری کہاں کہاں پھرتی ہے؟ میں اس کا بھنورا بن کر کیا کیا بنوں؟
6
જાણે વિંટાઈ ઝુલ્ફમાં છુપી રહું!
તાકાત ના દિદારમાં રહેતી! સનમ!
کاش میں تمہاری زلفوں میں لپٹ کر چھپی رہوں! میرے صنم، تمہارے دیدار میں مجھ میں کوئی طاقت نہیں بچتی۔
7
છે દિલ્લગીનો શેાખ કે તુંને નહીં?
તો આવ કાં? કાં બોલ ના આવી? સનમ!
کیا تمہیں دل لگی کا شوق نہیں ہے؟ تو پھر کیوں نہیں آتے یا کیوں نہیں کہتے کہ تم آ گئے ہو، میرے صنم!
8
જોઈ તને આંખો નકામી આ બધે,
ફોડી દઉં પૂરી તને આંખે? સનમ!
تجھ کو دیکھنے کے بعد، یہ آنکھیں اب ہر جگہ بے کار ہو گئی ہیں۔ بتاؤ، کیا میں انہیں پوری طرح سے تیرے لیے نکال دوں، میرے صنم؟
9
આ ચશ્મની તુંને ચદર ખૂંચે નકી,
કોને બિછાને તું સદા પેાઢે? સનમ!
میری آنکھوں کا یہ پردہ تمہیں ضرور چبھتا ہو گا۔ اے صنم، تم ہمیشہ کس کے بستر پر سوتی ہو؟
10
આપું જિગર ત્હોયે ન તું ત્યાં શું તને?
માલેક આલમના જિગરની તું, સનમ!
میں اپنا جگر دیتا ہوں، پھر بھی تم میری نہیں ہو؛ پھر تمہارے لیے کیا ہے؟ اے صنم، تم عالم کے مالک کے جگر کی ہو
11
તુને કહું છું યાર તો ગુસ્સે નહીં:
ત્હોયે હસે છે દૂરની દૂરે! સનમ!
میں تمہیں یار کہتا ہوں، تو غصہ نہ کرو: پھر بھی، تم دور سے مسکراتے ہو، میرے صنم!
12
તુંને કહું ખાવિન્દ તો રીઝે નહીં!
ત્યાં એ હસે તું દૂરની દૂરે! સનમ!
اگر میں تمہیں 'خاوند' کہوں تو تم خوش نہیں ہوتے۔ بلکہ تم دور ہی سے ہنستے ہو، میرے صنم!
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
