“Never did I fully see the mehndi of your steps! Why do you appear and disappear so, my beloved?”
میں نے تمہارے قدموں کی مہندی کبھی مکمل طور پر نہیں دیکھی۔ اے صنم، تم یوں کیوں آتی جاتی رہتی ہو؟
یہ شعر ادھورے پیار کے درد کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر شکایت کرتا ہے کہ اس نے اپنے محبوب کے 'قدموں کی مہندی' کبھی پوری طرح نہیں دیکھی، ایک نازک تصور جو یہ بتاتا ہے کہ محبوب کی موجودگی، اگرچہ سجی ہوئی اور حسین ہے، ہمیشہ عارضی اور نامکمل رہتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کا خوبصورت نقش مکمل طور پر سراہا جانے سے پہلے ہی مٹ جاتا ہے۔ 'تم ایسے آتی جاتی کیوں رہتی ہو، میرے صنم؟' یہ سوال ایک مستقل موجودگی کے لیے ایک جذباتی التجاء ہے، جو محبوب کے گریزاں رویے اور عاشق کی مسلسل آرزو کو نمایاں کرتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
