“Surely this veil from my eyes pricks you,On whose bed do you always rest, beloved?”
میری آنکھوں کا یہ پردہ تمہیں ضرور چبھتا ہو گا۔ اے صنم، تم ہمیشہ کس کے بستر پر سوتی ہو؟
یہ شعر گہری بے چینی اور ادھوری محبت کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ عاشق محسوس کرتا ہے کہ شاید اس کی آنکھوں کا 'پردہ' یا اس کی نگاہیں ہی محبوب کو چبھتی ہیں، گویا اس کا پیار ہی ایک بوجھ بن گیا ہو۔ پھر ایک درد بھرے سوال کے ساتھ وہ سوچتا ہے کہ محبوب کو اصلی سکون کہاں ملتا ہے، وہ ہمیشہ کس کے بستر پر آرام فرماتا ہے۔ یہ اس عاشق کا دکھ ہے جو محسوس کرتا ہے کہ وہ محبوب کے دل میں اپنی جگہ نہیں بنا پا رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
