“I give my heart, yet you're not mine; what then is there for you?You are the soul of the Lord of worlds, O beloved true!”
میں اپنا جگر دیتا ہوں، پھر بھی تم میری نہیں ہو؛ پھر تمہارے لیے کیا ہے؟ اے صنم، تم عالم کے مالک کے جگر کی ہو
یہ شعر محبت میں ملنے والی شیریں کسک کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ پہلی سطر میں عاشق اپنی گہری حسرت کا اظہار کرتا ہے کہ اپنا پورا دل دینے کے باوجود بھی محبوب اس کا نہیں بنتا، اور پھر یہ سوال کرتا ہے کہ آخر اور کیا دیا جا سکتا ہے یا مطلوب ہو سکتا ہے۔ دوسری سطر محبوب کو دنیاوی سطح سے بلند کرتی ہے، اسے 'مالک عالم' (جہانوں کے مالک) کی روح یا جوہر کے طور پر ظاہر کرتی ہے۔ یہ روحانی پہلو ان کی ناقابل حصول فطرت کی وضاحت کرتا ہے، کیونکہ وہ صرف ایک انسانی معشوق نہیں بلکہ الٰہی کی ایک مظہر ہیں، جس سے عاشق کی آرزو ایک مقدس سفر بن جاتی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
