غزل
फिर चराग़-ए-लाला से रौशन हुए कोह ओ दमन
फिर चराग़-ए-लाला से रौशन हुए कोह ओ दमन
یہ غزل ایک خوبصورت منظر کی عکاسی کرتی ہے، جہاں لاله کے چراغ سے کوہ و دمن دوبارہ روشن ہو جاتے ہیں۔ اس میں زندگی کی خوبصورتی اور فطرت کے تجدید ہونے کا ذکر ہے، جس میں مختلف تشبیہات کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ نظم محبت اور حسن کے ذریعے زندگی میں نئی توانائی اور چمک لانے کے جذبے کو ظاہر کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
फिर चराग़-ए-लाला से रौशन हुए कोह ओ दमन
मुझ को फिर नग़्मों पे उकसाने लगा मुर्ग़-ए-चमन
پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغ چمن
لالہ کے چراغ سے روشن ہوئے کوہ و دمن، مجھے پھر نغموں پر اکسانے لگا مرغِ چمن۔
2
फूल हैं सहरा में या परियाँ क़तार अंदर क़तार
ऊदे ऊदे नीले नीले पीले पीले पैरहन
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن
کیا یہ صحرا میں پھول ہیں، یا قطار میں قطار میں پری ہیں، جو نیلے اور پیلے لباس میں اڑ رہی ہیں؟
3
बर्ग-ए-गुल पर रख गई शबनम का मोती बाद-ए-सुब्ह
और चमकाती है उस मोती को सूरज की किरन
برگ گل پر رکھ گئی شبنم کا موتی باد صبح
اور چمکاتی ہے اس موتی کو سورج کی کرن
گل کے پتے پر صبح کی ہوا نے شبنم کا موتی رکھا، اور سورج کی کرن اس موتی کو چمکاتی ہے۔
4
हुस्न-ए-बे-परवा को अपनी बे-नक़ाबी के लिए
हों अगर शहरों से बन प्यारे तो शहर अच्छे कि बन
حسن بے پروا کو اپنی بے نقابی کے لیے
ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ بن
اگر بے پروا کی حُسنِ بے نقاب کو شہروں سے پیارا ہونا ہے، تو شہر اچھے بنیں۔
5
अपने मन में डूब कर पा जा सुराग़-ए-ज़ि़ंदगी
तू अगर मेरा नहीं बनता न बन अपना तो बन
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
اپنے من میں ڈوب کر زندگی کا سراغ پا جا، تو اگر میرا نہیں بنتا تو کم از کم اپنا تو بن۔
6
मन की दुनिया मन की दुनिया सोज़ ओ मस्ती जज़्ब ओ शौक़
तन की दुनिया तन की दुनिया सूद ओ सौदा मक्र ओ फ़न
من کی دنیا من کی دنیا سوز و مستی جذب و شوق
تن کی دنیا تن کی دنیا سود و سودا مکر و فن
دل کی دنیا میں سوز اور مستی، جذب اور شوق ہوتا ہے؛ اور جسم کی دنیا میں سود اور سودا، مکر اور فن ہوتا ہے۔
7
मन की दौलत हाथ आती है तो फिर जाती नहीं
तन की दौलत छाँव है आता है धन जाता है धन
من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
دل کی دولت ہاتھ آنے پر کبھی جاتی نہیں، مگر جسم کی دولت تو صرف ایک سایہ ہے؛ جب دولت آتی ہے، تو وہ چلی جاتی ہے۔
8
मन की दुनिया में न पाया मैं ने अफ़रंगी का राज
मन की दुनिया में न देखे मैं ने शैख़ ओ बरहमन
من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج
من کی دنیا میں نہ دیکھے میں نے شیخ و برہمن
من کی دنیا میں میں نے غیر ملکی کا راج نہ پایا، اور نہ ہی میں نے شیخ یا برہمن کو دیکھا۔
9
पानी पानी कर गई मुझ को क़लंदर की ये बात
तू झुका जब ग़ैर के आगे न मन तेरा न तन
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن
قلندر کی یہ بات سن کر میں پانی پانی ہو گیا؛ جب تم کسی اور کے سامنے جھکی، تو نہ تیرا دل تھا نہ تیرا جسم۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
