من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
“When the wealth of the mind arrives, it never leaves, But the wealth of the body is merely shade; when wealth comes, wealth leaves.”
— علامہ اقبال
معنی
دل کی دولت ہاتھ آنے پر کبھی جاتی نہیں، مگر جسم کی دولت تو صرف ایک سایہ ہے؛ جب دولت آتی ہے، تو وہ چلی جاتی ہے۔
تشریح
یہ شعر مادی دولت اور روحانی دولت کے درمیان ایک گہرا فرق بیان کرتا ہے۔ جسمانی عیش و آرام تو سایے کی طرح ہے، آتا ہے اور گزر جاتا ہے۔ مگر، دل کی دولت، یعنی علم اور کردار، جو ہاتھ آ جائے تو وہ کبھی ہاتھ سے نہیں جاتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
