غزل

नाला है बुलबुल-ए-शोरीदा तिरा ख़ाम अभी

नाला है बुलबुल-ए-शोरीदा तिरा ख़ाम अभी
علامہ اقبال· Ghazal· 10 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ تمہارا بلبلِ شریدا (محبت کی شاعری) ابھی خام ہے، اور یہ کہ عشق اور عقل دونوں اس وقت تک خام ہیں جب تک ان میں کوئی مصلحتِ اندیشی شامل نہ ہو۔ یعنی، محبت اور عقل کا یہ امتزاج ابھی بھی نکھار اور پختگی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
नाला है बुलबुल-ए-शोरीदा तिरा ख़ाम अभी अपने सीने में इसे और ज़रा थाम अभी
نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی اپنے سینہ میں اسے اور ذرا تھام ابھی
تیرا نگینا بلبل-اے-شوریدا ابھی کچا ہے، اسے اپنے سینے سے اور ذرا دیر تک تھام کر رکھنا۔
2
पुख़्ता होती है अगर मस्लहत-अंदेश हो अक़्ल इश्क़ हो मस्लहत-अंदेश तो है ख़ाम अभी
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی
اگر عقل میں کوئی سمجھداری کا ارادہ ہو تو وہ مضبوط ہوتی ہے؛ مگر اگر عشق میں سمجھداری کا ارادہ ہو تو وہ ابھی بھی کچا ہے۔
3
बे-ख़तर कूद पड़ा आतिश-ए-नमरूद में इश्क़ अक़्ल है महव-ए-तमाशा-ए-लब-ए-बाम अभी
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
محبت کے لیے میں نے نمرود کی آگ میں بے پروا کُود کر، مگر ابھی بھی میرا عقل آپ کے ہونٹوں کے منظر سے مسحور ہے۔
4
इश्क़ फ़र्मूदा-ए-क़ासिद से सुबुक-गाम-ए-अमल अक़्ल समझी ही नहीं म'अनी-ए-पैग़ाम अभी
عشق فرمودۂ قاصد سے سبک گام عمل عقل سمجھی ہی نہیں معنئ پیغام ابھی
عشق نے قاصد سے ایک سُبک گام عمل دیا ہے، جو ابھی عقل سمجھ نہیں پائی ہے۔
5
शेवा-ए-इश्क़ है आज़ादी ओ दहर-आशेबी तू है ज़ुन्नारी-ए-बुत-ख़ाना-ए-अय्याम अभी
شیوۂ عشق ہے آزادی و دہر آشوبی تو ہے زناریٔ بت خانۂ ایام ابھی
محبت کا پردہ آزادی ہے اور دور کی شب ہے، تم ابھی دوروں کے بت خانے کا منبع ہو۔
6
उज़्र-ए-परहेज़ पे कहता है बिगड़ कर साक़ी है तिरे दिल में वही काविश-ए-अंजाम अभी
عذر پرہیز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقی ہے ترے دل میں وہی کاوش انجام ابھی
عذرِ پرہیز پہ کہتا ہے ساقی، کہ تیرے دل میں ابھی وہی کاوشِ انجام ہے।
7
सई-ए-पैहम है तराज़ू-कम-ओ-कैफ़-ए-हयात तेरी मीज़ाँ है शुमार-ए-सहर-ओ-शाम अभी
سعئ پیہم ہے ترازوئے کم و کیف حیات تیری میزاں ہے شمار سحر و شام ابھی
اے پیارے، حکمت کا ترازو اور زندگی کا پیمانہ، تمہارا توازن ابھی صبح و شام گننے کو ہے۔
8
अब्र-ए-नैसाँ ये तुनुक-बख़्शी-ए-शबनम कब तक मेरे कोहसार के लाले हैं तही-जाम अभी
ابر نیساں یہ تنک بخشیٔ شبنم کب تک میرے کہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی
اے ابرِ نساں یہ تنوک بَخشِے شبنم کب تک میرے کوہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی
9
बादा-गर्दान-ए-अजम वो अरबी मेरी शराब मिरे साग़र से झिजकते हैं मय-आशाम अभी
بادہ گردان عجم وہ عربی میری شراب مرے ساغر سے جھجکتے ہیں مے آشام ابھی
بادا-گردانِ اَجَم وہ عربی میری شراب، میرے ساغر سے جھجکتے ہیں مے-آشام ابھی۔ (مطلب: وہ زہر دینے والے کا پیالہ، زہر پینے والے کا پیالہ، اور میری عربی شراب—میرے ساتھی ابھی بھی نشہ آور شام (یعنی महफ़िल) سے جھجکتے ہیں۔)
10
ख़बर 'इक़बाल' की लाई है गुलिस्ताँ से नसीम नौ-गिरफ़्तार फड़कता है तह-ए-दाम अभी
خبر اقبالؔ کی لائی ہے گلستاں سے نسیم نو گرفتار پھڑکتا ہے تہ دام ابھی
خبر ’اقبال‘ کی لائی ہے گلستان سے نسیم، نو-گیرفتار پھڑکتا ہے تۂ دام ابھی
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.