غزل
नाला है बुलबुल-ए-शोरीदा तिरा ख़ाम अभी
नाला है बुलबुल-ए-शोरीदा तिरा ख़ाम अभी
یہ غزل بتاتی ہے کہ تمہارا بلبلِ شریدا (محبت کی شاعری) ابھی خام ہے، اور یہ کہ عشق اور عقل دونوں اس وقت تک خام ہیں جب تک ان میں کوئی مصلحتِ اندیشی شامل نہ ہو۔ یعنی، محبت اور عقل کا یہ امتزاج ابھی بھی نکھار اور پختگی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
नाला है बुलबुल-ए-शोरीदा तिरा ख़ाम अभी
अपने सीने में इसे और ज़रा थाम अभी
تیرا نگینا بلبل-اے-شوریدا ابھی کچا ہے، اسے اپنے سینے سے اور ذرا دیر تک تھام کر رکھنا۔
2
पुख़्ता होती है अगर मस्लहत-अंदेश हो अक़्ल
इश्क़ हो मस्लहत-अंदेश तो है ख़ाम अभी
اگر عقل میں کوئی سمجھداری کا ارادہ ہو تو وہ مضبوط ہوتی ہے؛ مگر اگر عشق میں سمجھداری کا ارادہ ہو تو وہ ابھی بھی کچا ہے۔
3
बे-ख़तर कूद पड़ा आतिश-ए-नमरूद में इश्क़
अक़्ल है महव-ए-तमाशा-ए-लब-ए-बाम अभी
محبت کے لیے میں نے نمرود کی آگ میں بے پروا کُود کر، مگر ابھی بھی میرا عقل آپ کے ہونٹوں کے منظر سے مسحور ہے۔
4
इश्क़ फ़र्मूदा-ए-क़ासिद से सुबुक-गाम-ए-अमल
अक़्ल समझी ही नहीं म'अनी-ए-पैग़ाम अभी
عشق نے قاصد سے ایک سُبک گام عمل دیا ہے، جو ابھی عقل سمجھ نہیں پائی ہے۔
5
शेवा-ए-इश्क़ है आज़ादी ओ दहर-आशेबी
तू है ज़ुन्नारी-ए-बुत-ख़ाना-ए-अय्याम अभी
محبت کا پردہ آزادی ہے اور دور کی شب ہے، تم ابھی دوروں کے بت خانے کا منبع ہو۔
6
उज़्र-ए-परहेज़ पे कहता है बिगड़ कर साक़ी
है तिरे दिल में वही काविश-ए-अंजाम अभी
عذرِ پرہیز پہ کہتا ہے ساقی، کہ تیرے دل میں ابھی وہی کاوشِ انجام ہے।
7
सई-ए-पैहम है तराज़ू-कम-ओ-कैफ़-ए-हयात
तेरी मीज़ाँ है शुमार-ए-सहर-ओ-शाम अभी
اے پیارے، حکمت کا ترازو اور زندگی کا پیمانہ، تمہارا توازن ابھی صبح و شام گننے کو ہے۔
8
अब्र-ए-नैसाँ ये तुनुक-बख़्शी-ए-शबनम कब तक
मेरे कोहसार के लाले हैं तही-जाम अभी
اے ابرِ نساں یہ تنوک بَخشِے شبنم کب تک
میرے کوہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی
9
बादा-गर्दान-ए-अजम वो अरबी मेरी शराब
मिरे साग़र से झिजकते हैं मय-आशाम अभी
بادا-گردانِ اَجَم وہ عربی میری شراب، میرے ساغر سے جھجکتے ہیں مے-آشام ابھی۔ (مطلب: وہ زہر دینے والے کا پیالہ، زہر پینے والے کا پیالہ، اور میری عربی شراب—میرے ساتھی ابھی بھی نشہ آور شام (یعنی महफ़िल) سے جھجکتے ہیں۔)
10
ख़बर 'इक़बाल' की लाई है गुलिस्ताँ से नसीम
नौ-गिरफ़्तार फड़कता है तह-ए-दाम अभी
خبر ’اقبال‘ کی لائی ہے گلستان سے نسیم، نو-گیرفتار پھڑکتا ہے تۂ دام ابھی
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
