अब्र-ए-नैसाँ ये तुनुक-बख़्शी-ए-शबनम कब तक
मेरे कोहसार के लाले हैं तही-जाम अभी
“O veil of the beloved, this bestowal of moonlight's grace, until when will these young buds of my heart be enough for this cup of intoxication?”
— علامہ اقبال
معنی
اے ابرِ نساں یہ تنوک بَخشِے شبنم کب تک میرے کوہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی
تشریح
شاعری میں شاعر نے محبوب کی آنکھوں کے اشک کو شبنم کی مہربانی قرار دیا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ یہ تروتازگی کب تک رہے گی؟ مگر ساتھ ہی یاد دلاتے ہیں کہ میرے کوہسار کے لالے تو ابھی بھی جام میں تازہ ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
