پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل
عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی
“If the mind has a calculative intent, it is strong; but if love has a calculative intent, it is still raw.”
— علامہ اقبال
معنی
اگر عقل میں کوئی سمجھداری کا ارادہ ہو تو وہ مضبوط ہوتی ہے؛ مگر اگر عشق میں سمجھداری کا ارادہ ہو تو وہ ابھی بھی کچا ہے۔
تشریح
یہ شعر عقل اور عشق کے بنیادی فرق کو بیان کرتا ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ عقل کی مضبوطی اس کے عملی سوچ میں ہے، لیکن عشق کی فطرت ہی ایسی ہے کہ وہ ہمیشہ نادیدہ اور خام رہے گا، چاہے ہم اسے کتنا ہی سمجھنے کی کوشش کریں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
