غزل

अनोखी वज़्अ है सारे ज़माने से निराले हैं

अनोखी वज़्अ है सारे ज़माने से निराले हैं
علامہ اقبال· Ghazal· 8 shers

یہ غزل ایک ایسے عشق اور درد کا بیان کرتی ہے جو عام نہیں، بلکہ بہت منفرد ہے۔ شاعر درد میں بھی لذت محسوس کرتا ہے، اور اپنے پیار کے چمن کو سرسبز کرنے کے لیے وہ اپنی امیدوں اور جگر کا خون دینے کو تیار ہے۔ وہ راتوں کو ستاروں کی خاموشی اور غم سے گزرتا ہے، لیکن اس کا عشق ہمیشہ منفرد اور بے مثال رہے گا۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
अनोखी वज़्अ है सारे ज़माने से निराले हैं ये आशिक़ कौन सी बस्ती के या-रब रहने वाले हैं
انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں
انوکھی وज़्ع ہے جو سارے زمانے سے نرالی ہے۔ یا رب، یہ عاشق کون سی بستی کے رہنے والے ہیں۔
2
इलाज-ए-दर्द में भी दर्द की लज़्ज़त पे मरता हूँ जो थे छालों में काँटे नोक-ए-सोज़न से निकाले हैं
علاج درد میں بھی درد کی لذت پہ مرتا ہوں جو تھے چھالوں میں کانٹے نوک سوزن سے نکالے ہیں
इलाज-ए-दर्द में भी दर्द की लज़्ज़त पे मरता हूँ, जो थे छालों में काँटे नोक-ए-सोज़न से निकाले हैं।
3
फला-फूला रहे या-रब चमन मेरी उमीदों का जिगर का ख़ून दे दे कर ये बूटे मैं ने पाले हैं
پھلا پھولا رہے یارب چمن میری امیدوں کا جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں
اے رب، میری امیدوں کا یہ باغ کھلا رہے، میں نے یہ پودے سنوارے ہیں، اس لیے میں اپنا جگر کا خون دے دوں گا۔
4
रुलाती है मुझे रातों को ख़ामोशी सितारों की निराला इश्क़ है मेरा निराले मेरे नाले हैं
رلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کی نرالا عشق ہے میرا نرالے میرے نالے ہیں
ستاروں کی خاموشی مجھے راتوں کو روتی ہے، میرا عشق منفرد ہے اور میرے نالے بھی منفرد ہیں۔
5
न पूछो मुझ से लज़्ज़त ख़ानमाँ-बर्बाद रहने की नशेमन सैकड़ों मैं ने बना कर फूँक डाले हैं
نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی نشیمن سیکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں
مجھ سے یہ نہ پوچھ کہ لذت کے خانوں میں برباد رہنے کا کیسا نشہ ہے، میں نے تو سینکڑوں ایسے نشیمن (مسرات کے چراغ) بنا کر پھونک ڈالے ہیں۔
6
नहीं बेगानगी अच्छी रफ़ीक़-ए-राह-ए-मंज़िल से ठहर जा ऐ शरर हम भी तो आख़िर मिटने वाले हैं
نہیں بیگانگی اچھی رفیق راہ منزل سے ٹھہر جا اے شرر ہم بھی تو آخر مٹنے والے ہیں
اے شَرر، منزل کے راستے پر رفیق بن کر تنہا نہ رہ؛ ہم بھی تو آخر مٹنے والے ہیں۔
7
उमीद-ए-हूर ने सब कुछ सिखा रक्खा है वाइ'ज़ को ये हज़रत देखने में सीधे-साधे भोले भाले हैं
امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادھے بھولے بھالے ہیں
امیدِ حور نے واؔیز کو سب کچھ سکھا دیا ہے؛ یہ حضرت دیکھنے میں بہت سادے اور بholen لگتے ہیں۔
8
मिरे अशआ'र ऐ 'इक़बाल' क्यूँ प्यारे न हों मुझ को मिरे टूटे हुए दिल के ये दर्द-अंगेज़ नाले हैं
مرے اشعار اے اقبالؔ کیوں پیارے نہ ہوں مجھ کو مرے ٹوٹے ہوئے دل کے یہ دردانگیز نالے ہیں
میرے اشعار اے اقبال، کیوں پیارے نہ ہوں مجھ کو۔ میرے ٹوٹے ہوئے دل کے یہ درد انگے نالے ہیں।
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.