इलाज-ए-दर्द में भी दर्द की लज़्ज़त पे मरता हूँ
जो थे छालों में काँटे नोक-ए-सोज़न से निकाले हैं
“Even in the cure for pain, I die for the sweetness of pain; Those who were thorns in the bark, I pulled out with the tip of a needle.”
— علامہ اقبال
معنی
इलाज-ए-दर्द में भी दर्द की लज़्ज़त पे मरता हूँ, जो थे छालों में काँटे नोक-ए-सोज़न से निकाले हैं।
تشریح
یہ شعر درد کے جنونی عشق کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ درد کا علاج ہو رہا ہے، پھر بھی وہ درد کی لذت پر مرتا ہے۔ یہ ایک ایسی کشش ہے، جیسے زخموں سے کاٹے گئے کانٹے، جو دکھ کے حسن میں بدل گئے ہیں۔
