غزل
ظلمت کدے میں مرے شب غم کا جوش ہے
ظلمت کدے میں مرے شب غم کا جوش ہے
یہ غزل گہرے دکھ اور اداسی کی کیفیت کا ایک جاندار نقشہ پیش کرتی ہے۔ شاعر اپنے "ظلمت کدے" میں ہونے کو بیان کرتا ہے جہاں غم کی رات پوری شدت سے چھائی ہوئی ہے اور سحر کی ہلکی سی جھلک، ایک شمع بھی خاموش ہے، جو امید کے مکمل فقدان کی علامت ہے۔ یہ وصل اور حسن کی طویل حسرت اور اس پھیلی ہوئی اداسی کے درمیان حواس کو نہ ملنے والے سکون کی بات کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ज़ुल्मत-कदे में मेरे शब-ए-ग़म का जोश है
इक शम्अ है दलील-ए-सहर सो ख़मोश है
میرے تاریک گھر میں غم کی رات کا جوش زوروں پر ہے۔ صبح کی علامت کے طور پر موجود ایک شمع بھی خاموش (بُجھ چکی) ہے۔
2
ने मुज़्दा-ए-विसाल न नज़्ज़ारा-ए-जमाल
मुद्दत हुई कि आश्ती-ए-चश्म-ओ-गोश है
نہ تو وصل کی کوئی خوش خبری ہے اور نہ ہی کسی جمال کا نظارہ۔ بہت عرصہ ہو گیا ہے کہ میری آنکھ اور کان دونوں پرسکون ہیں، گویا انہوں نے صلح کر لی ہے۔
3
मय ने किया है हुस्न-ए-ख़ुद-आरा को बे-हिजाब
ऐ शौक़! हाँ इजाज़त-ए-तस्लीम-ए-होश है
مے نے خود آرا حُسن کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اے شوق! ہوش کی قربانی کی اجازت مل گئی ہے۔
4
गौहर को अक़्द-ए-गर्दन-ए-ख़ूबाँ में देखना
क्या औज पर सितारा-ए-गौहर-फ़रोश है
گوہَر کو حسیناؤں کی گردنوں میں دیکھنا، موتی بیچنے والے کا ستارہ کتنا عروج پر ہے۔
5
दीदार बादा हौसला साक़ी निगाह मस्त
बज़्म-ए-ख़याल मय-कदा-ए-बे-ख़रोश है
دیدار شراب ہے، حوصلہ ساقی ہے، اور نگاہیں مست ہیں۔ خیالوں کی محفل ایک پرسکون اور بے شور مے خانہ ہے۔
6
ऐ ताज़ा वारदान-ए-बिसात-ए-हवा-ए-दिल
ज़िन्हार अगर तुम्हें हवस-ए-नाए-ओ-नोश है
اے دل کی خواہشات کے میدان میں نئے آنے والو، خبردار رہو اگر تمہیں ناچ گانے اور پینے کی ہوس ہے۔
7
देखो मुझे जो दीदा-ए-इबरत-निगाह हो
मेरी सुनो जो गोश-ए-नसीहत-नेओश है
مجھے دیکھو اگر تمہاری آنکھ عبرت حاصل کرنے والی ہو؛ میری سنو اگر تمہارا کان نصیحت سننے والا ہو۔
8
साक़ी-ब-जल्वा दुश्मन-ए-ईमान-ओ-आगही
मुतरिब ब-नग़्मा रहज़न-ए-तम्कीन-ओ-होश है
ساقی اپنے جلوے سے ایمان اور آگہی کا دشمن ہے۔ مطرب اپنے نغمے سے تمکین اور ہوش کا رہزن ہے۔
9
या शब को देखते थे कि हर गोशा-ए-बिसात
दामान-ए-बाग़बान ओ कफ़-ए-गुल-फ़रोश है
یا شب کو وہ دیکھتے تھے کہ ہر بساط کا گوشہ باغبان کا دامن اور گلفروش کی ہتھیلی ہے۔
10
लुफ़्त-ए-ख़िरम-ए-साक़ी ओ ज़ौक़-ए-सदा-ए-चंग
ये जन्नत-ए-निगाह वो फ़िरदौस-ए-गोश है
ساقی کی چال کا لطف اور چنگ کی آواز کا ذوق، یہ آنکھوں کے لیے جنت ہے اور وہ کانوں کے لیے فردوس ہے۔
11
या सुब्ह-दम जो देखिए आ कर तो बज़्म में
ने वो सुरूर ओ सोज़ न जोश-ओ-ख़रोश है
اگر آپ صبح آ کر محفل دیکھیں تو نہ وہ سرور اور سوز ہے، نہ وہ جوش و خروش ہے۔
12
दाग़-ए-फ़िराक़-ए-सोहबत-ए-शब की जली हुई
इक शम्अ रह गई है सो वो भी ख़मोश है
رات کی صحبت سے جدائی کا جلا ہوا داغ باقی ہے۔ صرف ایک شمع بچی ہے، اور وہ بھی خاموش ہے۔
13
आते हैं ग़ैब से ये मज़ामीं ख़याल में
'ग़ालिब' सरीर-ए-ख़ामा नवा-ए-सरोश है
یہ مضامین میرے خیال میں غیب سے آتے ہیں۔ 'غالب'، قلم کی سرسراہٹ فرشتے کی آواز ہے۔
14
हो कर शहीद इश्क़ में पाए हज़ार जिस्म
हर मौज-ए-गर्द-ए-राह मिरे सर को दोश है
عشق میں شہید ہو کر میں نے ہزاروں جسم پائے ہیں۔ راہ کی گرد کا ہر موج میرے سر کو دوش ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
