غزل

نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی

نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی
مرزا غالب· Ghazal· 9 shers· radif: की

یہ غزل عشق کی اس المناک حقیقت کو اجاگر کرتی ہے جہاں محبوب کے ظلم کی فریاد کرنا بھی ملامت اور رسوائی کا سبب بنتا ہے۔ غالب نے اس میں درد و الم، انتہائے جنوں اور عاشق کے بے بس مگر پرخلوص جذبۂ وفا کو گہرے فلسفیانہ انداز میں بیان کیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
निकोहिश है सज़ा फ़रियादी-ए-बे-दाद-ए-दिलबर की मबादा ख़ंदा-ए-दंदाँ-नुमा हो सुब्ह महशर की
نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی مبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی
محبوب کے ظلم و ستم کا شکوہ کرنے والے کی سزا ملامت ہی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کی صبح اس کا مذاق اڑاتے ہوئے دانت نکال کر ہنس پڑے۔
2
रग-ए-लैला को ख़ाक-ए-दश्त-ए-मजनूँ रेशगी बख़्शे अगर बोवे बजा-ए-दाना दहक़ाँ नोक निश्तर की
رگ لیلیٰ کو خاک دشت مجنوں ریشگی بخشے اگر بووے بجاۓ دانہ دہقاں نوک نشتر کی
اگر کسان بیج کے دانے کے بجائے نشتر کی نوک بوئے، تو مجنوں کے صحرا کی مٹی لیلیٰ کی رگ کو جڑیں اور ریشے عطا کرے گی۔
3
पर-ए-परवाना शायद बादबान-ए-कश्ती-ए-मय था हुई मज्लिस की गर्मी से रवानी दौर-ए-साग़र की
پر پروانہ شاید بادبان کشتی مے تھا ہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دور ساغر کی
شاید پروانے کا پر شراب کی کشتی کا بادبان بن گیا تھا، کیونکہ محفل کی گرمی کے سبب پیالوں کا دور تیزی سے چلنے لگا۔
4
करूँ बे-दाद-ए-ज़ौक़-ए-पर-फ़िशानी अर्ज़ क्या क़ुदरत कि ताक़त उड़ गई उड़ने से पहले मेरे शहपर की
کروں بے داد ذوق پر فشانی عرض کیا قدرت کہ طاقت اڑ گئی اڑنے سے پہلے میرے شہ پر کی
میں قدرت کے سامنے اڑنے کے اپنے شوق پر ہونے والے ظلم کا کیا شکوہ کروں، جبکہ پرواز کرنے سے پہلے ہی میرے بازوؤں کی طاقت اڑ گئی۔
5
कहाँ तक रोऊँ उस के खे़मे के पीछे क़यामत है मिरी क़िस्मत में या-रब क्या न थी दीवार पत्थर की
کہاں تک روؤں اس کے خیمے کے پیچھے قیامت ہے مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی
میں کب تک اس کے خیمے کے پیچھے روتا رہوں، یہ تو بڑی قیامت اور عذاب ہے۔ اے میرے رب، کیا میری قسمت میں سر ٹیک کر رونے کے لیے پتھر کی ایک دیوار بھی نہیں لکھی تھی؟
6
ब-जुज़ दीवानगी होता न अंजाम-ए-ख़ुद-आराई अगर पैदा न करता आइना ज़ंजीर जौहर की
بجز دیوانگی ہوتا نہ انجام خود آرائی اگر پیدا نہ کرتا آئنہ زنجیر جوہر کی
خود پسندی اور خود نمائی کا انجام دیوانگی کے سوا کچھ نہ ہوتا، اگر آئینہ اپنے جوہر کی لکیروں سے روک تھام کی زنجیر پیدا نہ کرتا۔
7
ग़ुरूर-ए-लुत्फ़-ए-साक़ी नश्शा-ए-बे-बाकी-ए-मस्ताँ नम-ए-दामान-ए-इस्याँ है तरावत मौज-ए-कौसर की
غرور لطف ساقی نشۂ بیباکی مستاں نم دامان عصیاں ہے طراوت موج کوثر کی
ساقی کی نوازش پر ناز ہی مے نوشوں کی بے باکی کا نشہ ہے، اور ہمارے گناہوں کے دامن کی نمی دراصل نہرِ کوثر کی لہروں کی تازگی ہے۔
8
मिरा दिल माँगते हैं आरियत अहल-ए-हवस शायद ये जाना चाहते हैं आज दावत में समुंदर की
مرا دل مانگتے ہیں عاریت اہل ہوس شاید یہ جانا چاہتے ہیں آج دعوت میں سمندر کی
شاید ہوس پرست لوگ میرا دل ادھار مانگ رہے ہیں، کیونکہ وہ آج سمندر کی دعوت میں جانا چاہتے ہیں۔
9
'असद' जुज़ आब-ए-बख़्शीदन ज़े-दरिया ख़िज़्र को क्या था डुबोता चश्मा-ए-हैवाँ में गर कश्ती सिकंदर की
اسدؔ جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھا ڈبوتا چشمۂ حیواں میں گر کشتی سکندر کی
اے اسد، دریا سے پانی پلانے کے سوا خضر کے بس میں اور کیا تھا؟ کاش وہ آبِ حیات کے چشمے میں سکندر کی کشتی ہی ڈبو دیتے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.