اسدؔ جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھا — مرزا غالب
“What could Khizr offer from the river, Asad, except a gift of water? / Would that he had drowned Alexander's vessel in the Fountain of Life!”
معنی
اے اسد، دریا سے پانی پلانے کے سوا خضر کے بس میں اور کیا تھا؟ کاش وہ آبِ حیات کے چشمے میں سکندر کی کشتی ہی ڈبو دیتے۔
تشریح
غالبؔ نے اس شعر میں اپنی مخصوص شوخی اور فلسفیانہ تضاد کے ساتھ حضرتِ خضر اور سکندر کی روایت پر ایک انوکھا سوال اٹھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خضر کا دریا سے کسی پیاسے کو محض پانی پلا دینا کوئی ایسا بڑا کارنامہ نہیں تھا۔ کمال تو تب ہوتا جب وہ سکندر کی کشتی کو آبِ حیات کے چشمے ہی میں غرق کر دیتے! حیاتِ ابدی بخشنے والے پانی میں ڈوب مرنے کی یہ تمنا زندگی اور فنا کے روایتی تصورات پر غالبؔ کا ایک لاجواب اور فکر انگیز طنز ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
