کہاں تک روؤں اس کے خیمے کے پیچھے قیامت ہے — مرزا غالب

کہاں تک روؤں اس کے خیمے کے پیچھے قیامت ہے مری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی

“How long must I weep behind her tent? It is sheer agony; / Was not even a wall of stone, O Lord, decreed in my destiny?”

— مرزا غالب

معنی

میں کب تک اس کے خیمے کے پیچھے روتا رہوں، یہ تو بڑی قیامت اور عذاب ہے۔ اے میرے رب، کیا میری قسمت میں سر ٹیک کر رونے کے لیے پتھر کی ایک دیوار بھی نہیں لکھی تھی؟

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنی بے بسی اور درد کی انتہا بیان کر رہا ہے۔ محبوب کے خیمے کے پیچھے رونا اس کے لیے قیامت بن گیا ہے، کیونکہ کپڑے کی یہ نازک اوٹ نہ تو کوئی مستقل پناہ دیتی ہے اور نہ غم کی شدت میں سر ٹکا کر رونے کا کوئی ٹھوس سہارا۔ شاعر خدا سے گلہ کرتا ہے کہ کیا اس کی قسمت اتنی محروم تھی کہ اس کے نصیب میں سر پٹخنے کے لیے پتھر کی ایک مضبوط دیوار تک نہ لکھی گئی؟

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.