کروں بے داد ذوق پر فشانی عرض کیا قدرت — مرزا غالب
“How can I plead the cruelty of this longing for flight, O Nature? The very strength of my wings took flight before I ever could.”
معنی
میں قدرت کے سامنے اڑنے کے اپنے شوق پر ہونے والے ظلم کا کیا شکوہ کروں، جبکہ پرواز کرنے سے پہلے ہی میرے بازوؤں کی طاقت اڑ گئی۔
تشریح
غالب اس شعر میں تقدیر کی بے رحمی اور انسانی بے بسی کو ایک خوبصورت تضاد کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ پرندے کے دل میں اڑان بھرنے کا بے پناہ شوق اور تڑپ تو موجود ہے، مگر المیہ یہ ہوا کہ وہ خود تو کیا اڑتا، اڑنے سے پہلے ہی اس کے پروں کی طاقت اڑ گئی۔ یہ شعر دراصل ان حسرتوں کا نوحہ ہے جہاں دل میں خواب تو بہت اونچے ہوتے ہیں، لیکن حالات انسان سے پرواز کی صلاحیت ہی چھین لیتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
