رگ لیلیٰ کو خاک دشت مجنوں ریشگی بخشے — مرزا غالب
“The dust of Majnun’s desert would sprout roots for Laila’s vein, / If in place of seed, the peasant sowed the lancet's tip like grain.”
معنی
اگر کسان بیج کے دانے کے بجائے نشتر کی نوک بوئے، تو مجنوں کے صحرا کی مٹی لیلیٰ کی رگ کو جڑیں اور ریشے عطا کرے گی۔
تشریح
غالبؔ نے اس شعر میں لیلیٰ اور مجنوں کے اس پُراسرار تعلق کو کمال تخیل سے باندھا ہے، جس میں ایک پر نشتر چلے تو خون دوسرے کے بدن سے بہتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی کسان مجنوں کے صحرا کی خاک میں بیج کے بجائے نشتر کی نوک بو دے، تو وہ زمین لیلیٰ کی رگوں کے لیے ریشے اور جڑیں اگا دے گی۔ یہ دراصل عشق کے اس انتہا کا بیان ہے جہاں عاشق کی ویران خاک بھی محبوب کے درد کو جذب کر کے اسی کے وجود کا حصہ بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
