نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی — مرزا غالب
“Censure is the penalty for bewailing the beloved's tyranny, / Lest the dawn of Judgment Day break into a mocking laugh that bares its teeth.”
معنی
محبوب کے ظلم و ستم کا شکوہ کرنے والے کی سزا ملامت ہی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کی صبح اس کا مذاق اڑاتے ہوئے دانت نکال کر ہنس پڑے۔
تشریح
غالب یہاں محبت کے آداب کا درس دے رہے ہیں کہ محبوب کے ستم کا شکوہ کرنا عاشق کے لیے عیب ہے اور اس پر اس کی سرزنش ہونی چاہیے۔ انہیں خدشہ ہے کہ روزِ محشر جب سب انصاف مانگ رہے ہوں گے، تو حشر کی صبح کہیں دانت نکال کر عاشق پر نہ ہنس پڑے کہ محبت کا دعویٰ کرنے والا اپنے ہی محبوب کے خلاف فریاد لے آیا ہے۔ سچے عشق کا تقاضا یہی ہے کہ ہر جفا کو سینے سے لگایا جائے، نہ کہ روزِ جزا اس کا تماشا بنایا جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
