پر پروانہ شاید بادبان کشتی مے تھا — مرزا غالب

پر پروانہ شاید بادبان کشتی مے تھا ہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دور ساغر کی

“The moth's wing, perhaps, became the sail upon the skiff of wine; the warmth of the assembly set the circling goblet afloat.”

— مرزا غالب

معنی

شاید پروانے کا پر شراب کی کشتی کا بادبان بن گیا تھا، کیونکہ محفل کی گرمی کے سبب پیالوں کا دور تیزی سے چلنے لگا۔

تشریح

شاعر نے اس شعر میں ایک نہایت لطیف اور دلکش منظر کشی کی ہے، گویا شمع پر نثار ہونے والے پروانے کا پر شراب کے پیالے کے لیے بادبان بن گیا ہو۔ محفل کی گرما گرمی اور عشق کے جوش نے ایسی ہوا پیدا کی جس سے ساغر کا دور ایک تیرتی ہوئی کشتی کی طرح رواں دواں ہو گیا۔ یہ خیال قربانی اور رندی کے نشے کو ایک خوبصورت تال میل میں باندھ دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.