غرور لطف ساقی نشۂ بیباکی مستاں — مرزا غالب
“Proud in the Cupbearer’s grace is the revelers' fearless ecstasy; the damp hem of our sin carries the cool freshness of Kausar’s wave.”
معنی
ساقی کی نوازش پر ناز ہی مے نوشوں کی بے باکی کا نشہ ہے، اور ہمارے گناہوں کے دامن کی نمی دراصل نہرِ کوثر کی لہروں کی تازگی ہے۔
تشریح
غالب اس شعر میں ساقی یعنی ذاتِ باری تعالیٰ کی بے پایاں رحمت پر ایک عاشقانہ اور بے باک ناز کا اظہار کر رہے ہیں۔ رندوں اور مے نوشوں کو بخشش کا ایسا پختہ یقین ہے کہ وہ گناہوں کے خوف سے آزاد ہو چکے ہیں۔ ان کے نزدیک گناہوں سے بھیگا ہوا دامن شرمندگی نہیں، بلکہ اس پر تو نہرِ کوثر کی لہروں کا چھڑکاؤ اور اس کی بخشش کی طراوت جلوہ گر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
