غزل
حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرمِ تماشا ہو
حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرمِ تماشا ہو
یہ غزل حسد سے نکل کر دنیا کے نظاروں کے ذریعے اپنے نقطہ نظر کو وسیع کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ دل کی گہری خواہشات کا اظہار کرتی ہے، سات دریاؤں جیسی وسیع تجربات کو اپنانے کی تمنا کرتی ہے، اور محبوب کی دلکش چال کو بیان کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا کا تصور کرتی ہے جہاں قدرت کے عناصر کو فن اور خوبصورتی کی اشیاء میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
हसद से दिल अगर अफ़्सुर्दा है गर्म-ए-तमाशा हो
कि चश्म-ए-तंग शायद कसरत-ए-नज़्ज़ारा से वा हो
حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو
کہ چشم تنگ شاید کثرت نظارہ سے وا ہو
اگر تمہارا دل حسد سے افسردہ ہے تو تماشے دیکھنے میں مشغول ہو جاؤ، تاکہ تنگ چشم شاید کثرتِ نظارہ سے وا ہو جائے۔
2
ब-क़द्र-ए-हसरत-ए-दिल चाहिए ज़ौक़-ए-मआसी भी
भरूँ यक-गोशा-ए-दामन गर आब-ए-हफ़्त-दरिया हो
بہ قدر حسرت دل چاہیے ذوق معاصی بھی
بھروں یک گوشۂ دامن گر آب ہفت دریا ہو
میرے دل کی حسرت کے برابر ہی گناہوں کی چاہت بھی ہونی چاہیے۔ میں اپنے دامن کا ایک گوشہ ہی بھر پاؤں گا، اگر وہ سات سمندروں کا پانی بھی ہو۔
3
अगर वो सर्व-क़द गर्म-ए-ख़िराम-ए-नाज़ आ जावे
कफ़-ए-हर-ख़ाक-ए-गुलशन शक्ल-ए-क़ुमरी नाला-फ़र्सा हो
اگر وہ سرو قد گرم خرام ناز آ جاوے
کف ہر خاک گلشن شکل قمری نالہ فرسا ہو
اگر وہ سرو قد محبوب اپنی نازک اور اتلاتی چال کے ساتھ آ جائے، تو ہر باغ کی خاک بھی قمری کی شکل اختیار کر کے نالہ و فریاد کرنے لگے گی۔
4
बहम बालीदन-ए-संग-ओ-गुल-ए-सहरा ये चाहे है
कि तार-ए-जादा भी कोहसार को ज़ुन्नार-ए-मीना हो
بہم بالیدن سنگ و گل صحرا یہ چاہے ہے
کہ تار جادہ بھی کہسار کو زنار مینا ہو
ریگستان کے پتھر اور پھول کا یہ باہمی کھلنا چاہتا ہے کہ راستے کا دھاگہ بھی پہاڑ کو نیلم کا زنار ہو جائے۔
5
हरीफ़-ए-वहशत-ए-नाज़-ए-नसीम-ए-इश्क़ जब आऊँ
कि मिस्ल-ए-ग़ुंचा साज़-ए-यक-गुलिस्ताँ दिल मुहय्या हो
حریف وحشت ناز نسیم عشق جب آؤں
کہ مثل غنچہ ساز یک گلستاں دل مہیا ہو
میں عشق کی ہوا کے وحشت بھرے ناز کا سامنا تبھی کروں گا جب میرا دل، ایک کلی کی طرح، پورے باغ کے لیے تیار ہو۔
6
बजाए दाना ख़िर्मन यक-बयाबाँ बैज़ा-ए-कुमरी
मिरा हासिल वो नुस्ख़ा है कि जिस से ख़ाक पैदा हो
بجائے دانہ خرمن یک بیاباں بیضۂ قمری
مرا حاصل وہ نسخہ ہے کہ جس سے خاک پیدا ہو
دانے کے انبار کی بجائے، کُمری کے انڈوں کا ایک پورا صحرا ہے۔ میرا حاصل وہ نسخہ ہے جس سے صرف خاک پیدا ہوتی ہے۔
7
करे क्या साज़-ए-बीनिश वो शहीद-ए-दर्द-आगाही
जिसे मू-ए-दिमाग़-ए-बे-ख़ुदी ख़्वाब-ए-ज़ुलेख़ा हो
کرے کیا ساز بینش وہ شہید درد آگاہی
جسے موئے دماغ بے خودی خواب زلیخا ہو
وہ شہیدِ دردِ آگاہی کے لیے آلۂ بینش کیا کر سکتا ہے، جب اس کے بے خودی کے عالم میں دماغ کا ایک بال بھی خوابِ زلیخا جیسا گہرا تجربہ لے آتا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے گہرے جذب ہونے والے شخص کے لیے بیرونی ادراک بے معنی ہے۔
8
दिल-ए-जूँ-शम्अ' बहर-ए-दावत-ए-नज़्ज़ारा लायानी
निगह लबरेज़-ए-अश्क ओ सीना मामूर-ए-तमन्ना हो
دل جوں شمع بہر دعوت نظارہ لایعنی
نگہ لبریز اشک و سینہ معمور تمنا ہو
میرا دل، جو شمع کی مانند ہے، دید کے دعوت کے لیے بے فائدہ پیش کیا گیا۔ کاش میری نگاہ آنسوؤں سے لبریز ہو اور میرا سینہ تمناؤں سے معمور ہو۔
9
न देखें रू-ए-यक-दिल सर्द ग़ैर-अज़ शम-ए-काफ़ूरी
ख़ुदाया इस क़दर बज़्म-ए-'असद' गर्म-ए-तमाशा हो
نہ دیکھیں روئے یک دل سرد غیر از شمع کافوری
خدایا اس قدر بزم اسدؔ گرم تماشا ہو
کافور کی شمع کے سوا کسی سرد دل کا چہرہ نظر نہ آئے۔ یا خدا، 'اسد' کی بزم اس قدر رونق اور گرمی سے بھرپور ہو۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
